عجب طرح سے ہے نافذ نظام آزادی

عجب طرح سے ہے نافذ نظام آزادی

دبستان خسرو و کبیر کی ماہانہ طرحی نشست’ جشن آزادی ‘کے عنوان سے منعقد

لکھنو: دبستان خسرو و کبیر کی ماہانہ طرحی نشست دبستان کے صدر آزاد ضمیر انصاری کی رہائش گاہ واقع دریا پور راجہ جی پورم میںیوم آزادی کے پر مسرت موقع پر’جشن آزادی ‘کے عنوان سے منعقدہوئی ۔ نشست کی صدارت کہنہ مشق شاعر عثمان عازم اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر سلیم احمد نے انجام دئےے۔

اس موقع پر دبستان کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سلیم احمد نے کہا کہ دن بدن نشستوں سے شعراءکی عدم موجودگی بے حد افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ جو شعراءدبستان سے وابستہ ہیں ان کے علاوہ نئے لکھنے والوں کو بھی ادارہ سے جوڑا جائے۔تاکہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوسکے ۔ساتھ ہی تعطیل کے دنوں میں نشست منعقد کرنے کا خاص خیال رکھا جائے۔جس سے شعراءکو شمولیت میں دقت نہ ہو۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آج کی یہ طرحی نشست ملک کی 73ویں یوم آزادی کے موقع پر خصوصی طور پر منعقد کی گئی ہے ۔ جس میں مجاہدین آزادی کو یاد کرتے ہوئے ڈاکٹر سلیم نے کہا کہ ہزاروں شعراء،ادباءاور صحافیوں نے ملک کی آزادی میں اپنے فرائض کے تئیں جان کی قربانی پیش کی تب جا کر ملک آزاد ہو سکا۔اس لئے آج ہم ملک پر جان قربان کرنے والے تمام شہداءکو جذباتی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ نشست میںچند شعراءکے اشعار پیش ہیں۔

کسی کو چھوٹ ملی ہے کسی پہ پابندی

عجب طرح سے ہے نافذ نظام آزادی

عثمان عازم

یہی شعار ہے زندہ ضمیر قوموں کا

انہیں رہا ہے سدا اہتمام آزادی

آزاد ضمیر انصاری

اب اس کوتم میرے بچوں سنبھال کر رکھنا

لہو کا اپنے صلہ ہے یہ جام آزادی

نصیر احمد نصیر

بدل رہا ہے زمانہ یہ سوچئے عاشق

بتائے کون کسی کو مقام آزادی

عاشق رائے بریلوی