طلاق ثلاثہ قانون کو جمعیۃعلماء نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا

طلاق ثلاثہ قانون کو جمعیۃعلماء نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا

سول مسئلہ کا کریمنل حل نہیں ہوسکتا، تین سال کی سزا اور جیل: غیر آئینی، گلزار اعظمی

ممبئی: صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے نے آج حال ہی میں پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کیئے گئے طلاق ثلاثہ قانو ن کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیاہے اور آئین ہند کی دفعہ 32 کے تحت سول رٹ پٹیشن داخل کی ہے جس پر کل سماعت ممکن ہے۔

جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی ممبئی میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے معاملے میں جب سپریم کورٹ میں سال 2017 سماعت ہوئی تھی اس وقت جمعیۃ علماء فریق اول تھی اور عدالت میں جمعیۃ علماء کے وکلاء نے بحث بھی کی تھی لیکن اب جبکہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق پارلیمنٹ نے قانون بنا دیا ہے جس میں تین سال تک کی سزا کا اعلان کیا گیا ہے اس کے خلاف جمعیۃ علماء سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی ہے کیونکہ پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق قانون تو بنا دیا ہے لیکن اس میں جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ سپریم کورٹ کئے فیصلے کے برعکس ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے متوازن قانون بنانے کا مشورہ دیا تھا جس میں سزاء کا کہیں ذکر نہیں تھا لیکن موجودہ حکومت نے سپریم کورٹ کی گائڈلائنس کو نظر انداز کرتے ہوئے قانونی بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پٹیشن میں جو سب سے ا ہم مدعہ اٹھایا گیا ہے وہ طلاق کے معاملے میں کریمنل سزا کا فیصلہ ہے جو قانوناً صحیح نہیں ہے کیونکہ شادی ایک سول معاہدہ اور اگر کوئی معاہدہ کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر جرمانہ عائد کیا جاسکتاہے، جیل میں بھیج دینا قطعی درست نہیں ہے۔

پٹیشن میں پروٹیکشن آف رائٹس آن میریج ایکٹ 2019 میں دی گئی دفعات جس کے مطابق تین طلاق دینے والے شخص پر مجرمامہ مقدمہ درج ہوگا اور ضمانت کی سماعت کے دوران عورت کی رائے جاننا بھی ضروری قرار دیا ہے جس پر اعتراض کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ کریمنل قانون کے اصولوں کے خلاف ہے جس سے بجائے انصاف حاصل ہونے کے نقصان ہوگا کیونکہ مسلم خواتین پردہ نشین ہوتی ہیں اور وہ اگر عدالت میں حاضر ہونے سے انکار کردے تب کیا ہوگا؟ نیز بچے کی تحویل بیوی کو دینے کی جو بات کہی گئی ہے وہ بھی غیر واجبی ہے کیونکہ اگر عورت کی معاشی حالت ٹھیک نہیں ہے یا اسے کوئی بیمار لاحق ہے جس کی وجہ سے وہ بچے کی صحح ڈھنگ سے پرورش نہیں کرسکتی ایسے میں بچے کی تحویل صرف بیوی کو دینا بچے کے حق میں ٹھیک نہیں ہوگا لہذا ان سب دفعات کو ختم کرنا چاہئے۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نامور وکیل اعجاز مقبول اور ان کی ٹیم نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا مستقیم کو عرض گذار بنا کر پٹیشن داخل کی ہے جس کا سول رٹ پٹیشن نمبر 1083/2019 ہے جوکل سماعت کے لیئے پیش ہوسکتی ہے۔