مسجد نبوی کے 8 ستون  تاریخ کے آئینے میں!

مسجد نبوی کے 8 ستون تاریخ کے آئینے میں!

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی آٹھ مزین ستونوں مشتمل ہے جنہیں عربی زبان میں 'اساطین' کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ہرستون کے جلی سنہرے حروف میں ان کے نام درج ہیں جن کے پس منظر میں ہرے رنگ کے سنہرے فریم بنائے گئے ہیں۔

ان ستونوں کے درمیان ایک " ریاض الجنۃ " ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ "میرے گھر اور منبر کے درمیان مقام 'ریاض الجنۃ' ہے۔ یہاں آنے والے زائرین نماز اور نوافل کی ادائی کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ مسجد نبوی کے 8 ستون پرانے ناموں پر مشتمل ہیں۔ ان ستونوں کے ساتھ عہد نبوت سے کئی تاریخی واقعات وابستہ ہیں۔

ان ستونوں نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گنبدکو تھام رکھا ہے۔ عہد نبوت میں یہ ستون کھجور کے تنے پر مشتمل تھے جو بعد میں باقاعدہ تعمیراتی مواد سے بنائے گئے۔ 1440 سال کے دوران کھجور کے تنے سے بنائے گئے ستون پتھروں میں تبدیل ہوگئے۔

مسجد نبوی کے اساطین کے وہ نام جنہیں دور نبوت میں لیا جاتا تھا، آج بھی موجود ہیں۔ ان میں سے ہرایک ستون کے ساتھ کوئی واقعہ یا قصہ وابستہ ہے۔ ان کے نام سبز رنگ کی پلیٹ کے درمیان سنہری رنگ میں لکھے گئے ہیں۔

المخلقہ ستون

یہ ستون نبی پاک کے مصلیٰ شریف کی ایک علامت ہے جسے 'المطیبہ المعطرہ' بھی کہا جاتا ہے۔اس ستون کے پاس صحابہ کرام کی نماز تواتر کے ساتھ ملتی ہے۔ سلمہ بن اکوع کی روایت کے مطابق المخلقہ ستون محراب نبوی شریف میں واقع ہے۔ اس پرجلی الفاظ میں 'اسطوانہ المخلقۃ' کے الفاظ درج ہیں۔ روایات کے مطابق یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل ادا فرمایا کرتے تھے۔

اسطوانہ سید عائشہ

یہ ستون یہ منبر، قبررسول اور قبلہ کی طرف تیسرا ستون۔ یہ ستون مہاجرین کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مہاجرین یہاں پر جمع ہوتے۔سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ تحویل قبلہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں پر نماز ادا فرماتےتھے۔اس کے بعد اپ محراب کی طرف متوجہ ہوئے۔حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور ابن زبیر رضوان اللہ علیھم بھی وہاں پر نوافل ادا کرتے تھے۔

اسطوانہ توبہ

یہ منبر کا چوتھا، قبر کا دوسرا اور قبلہ کا تیسرا ستون ہے۔ اسے ابو لبابہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔بنی قریظہ کی جنگ میں نبی کے فرمان کی خلاف ورزی کے بعد ابو لبابہ نے خود کو اس ستون کے ساتھ باندھ دیا تھا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق جنگ تبوک کے موقع پر پیچھے رہ جانے پر ابو لبابہ نے خود اس ستون کے ساتھ باندھ لیا تھا۔ روایات کے مطابق انہوں نے قسم کھائی تھی کہ جب تک رسول اللہ انہیں نہیں کھولیں گے وہ اسی جگہ خود کو باندھے رکھیں گے۔ پھر قرآن پاک میں ان کی توبہ کے نزول کے بعد انہیں کھول دیا گیا۔

اسطوانہ السیر

یہ ستون روضہ رسول کی کھڑکی سے متصل ۔ اس کے ساتھ ہی مشرق کی طرف توبہ ستون ہے۔ اس جگہ پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر رکھا گیا۔

اسطوانہ الحرس

یہ ستون مسجد نبوی کے شمال میں اسطوانہ توبہ کے عقب میں واقع ہے۔یہ ستون علی ابن ابی طالب کی نسبت سے منسوب ہے۔ اس کے ساتھ باب رسول اللہ ہے ۔ یہاں پر حضرت علی مسجد کی پہرے داری کے لیے بیٹھا کرتے تھے۔

اسطوانہ الوفود

یہ ستون مسجد نبوی کے شمال اسطوانہ الحرس کے پیچھے واقع ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم عربوں کے وفود سے ملاقات کے لیے یہاں تشریف فرما ہوتے۔ بعد میں یہ جگہ آپ کے صحابہ کی مجلس کی وجہ سے بھی مشہور ہوئی۔

اسطوانہ مقام جبریل

یہ ستون مسجد نبوی کے شمال مغربی کونے میں ہے۔ یہ ستون دیوار حجرہ میں بنایا گیا ہے۔ المربعہ اسطوانہ کےساتھ ہی باب فاطمہ ہے۔

اسطوانہ تہجد

یہ ستون مسجد کے شمال سےحجرہ حضرت فاطمہ کے عقب میں واقع ہے۔ اسی میں محراب واقع ہے۔ اس کی بائیں جانب باب عثمان جسے 'باب جبریل' کا نام بھی دیا جاتا ہے موجود ہے۔ یہاں سے آنحضور ایک چھوٹی چٹائی لے کرنکلتے اور بیت علی کے عقب میں بچھا کرنماز ادا کرتے۔ زیادہ تر تہجد کی نماز ادا یہاں پر ادا فرماتے۔ کسی صحابی نے انہیں وہاں تہجد ادا کرتے دیکھا تو انہوں نے بھی نماز ادا کی۔ صحابہ کو بھی جمع کرلیا۔ جب صحابہ زیادہ ہوگئے تو چٹائی منگائی گئی۔ پھر اسے لپیٹا گیا اور مسجد میں داخل ہوئے۔