بے باک صحافی حفیظ نعمانی

بے باک صحافی حفیظ نعمانی

راشد خان ندوی

کائنات میں جتنا زیادہ غور کیا جائے اتنا ہی یہ حقیقت ذہن نشین ہوتی جاتی ہے کہ خالق کون ومکان نے اپنی مخلوقات کو گوناں گوں صلاحیتیں ویعت کی ہیں، معروف و بزگ صحافی حفیظ نعمانی صاحب جنھوں نے تقریباً 90برس کی عمر میں گزشتہ 8 دسمبر شب داعی اجل کو لبیک کہا اور 9 دسمبر دوشنبہ کو لکھنؤ کے سب سے بڑے قبرستان عیش باغ میں تدفین عمل میں آئی ان کا نام جب سامنے آتا ہے تو بے اختیار زبان پر یہی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حفیظ نعمانی صاحب کو دیگر بہت سی خصوصیات کے ساتھ ایک سلیقہ شعار و بیباک قلم عطا فرمایا تھا۔ 1822ء میں کلکتہ سے نکلنے والے ہفت روزہ جام جہاں نما سے شروع ہونے والی اردو صحافت کی تاریخ کو اس معنی میں انتہائی متمول صحافت کہا جاسکتا ہے کہ اس کا دامن بے باک اور حق گو قلمکاروں سے بھرا ہوا ہے لیکن کسی تحریر میں اگر حق گوئی و بیباکی کے ساتھ سلیقہ شعاری بھی شامل ہوجائے تو پھر اس سے وہ کام لیا جاسکتا ہے جسے خالق کائنات نے قرآن پاک میں ’أُدعُ الیٰ سبیلک ربک بالحکمۃِ والموعظۃِ الحسنۃ‘ سے تعبیر کیا ہے۔ حفیظ نعمانی کی تحریریںاس بات کا ثبوت ہیں کہ انھوں نے حق گوئی و بے باکی کے ساتھ سلیقہ شعاری کو کہیں ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں بسااوقات ان بزرگوں کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے جن سے وہ عقیدت کی حد تک محبت کرتے ہیں لیکن تنقید میں کبھی تنقیص کا پہلو نہیں آنے دیا۔ حفیظ صاحب کوراقم نے سب سے پہلے رونامہ ان دنوں لکھنؤ کے اداریوں میں پڑھا اور سچ بات تو یہ ہے کہ حفیظ نعمانی صاحب جب تک ’ان دنوں‘ میں رہے وہ اخبار اپنے اداریوں کی وجہ سے ہی فروخت ہوتا رہا۔ کسی بھی اخبار کا اداریہ پورے اخبار کے دماغ کی حیثیت رکھتا ہے، ہر اخبار میں اداریہ لکھنے کے لئے مخصوص فرد بلکہ بڑے اخبارات میں تو کئی افراد پر مشتمل ایک ٹیم ہوتی ہے، صحافتی تاریخ پر نظر رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ بعض اداریوں نے حکومتوں کو اپنی پالیساں تک بدلنے پر مجبور کردیا، یہی وجہ ہے کہ سبھی اہم اخبارات اداریوں پر خصوصی توجہ دیتے ہیں، برننگ ٹاپک پر اظہار خیال کیا جاتا ہے، کسی اہم ترین موضوع پر اخبار اپنی رائے دیتا ہے، غالباً یہی جہ ہے کہ دانشور طبقہ کوشش کرتا ہے کہ ادارتی صفحہ پر ضرور ایک نظر ڈال لے۔ راقم کا 1990میں بغرض تعلیم لکھنؤ میں آنا ہوا، اس وقت قومی آواز اردو کا سب سے بڑا اخبار تھا، اس دور میں اردو کا کوئی اور روزنامہ قابل ذکر نہیں لیکن محض حفیظ نعمانی کے اداریوں نے ’ان دنوں‘ کو ‘قومی آواز‘ پر برتری عطا کردی تھی۔ 90ء کے بعد کا قومی آواز کا اداریہ حفیظ نعمانی کی شگفتہ تحریروں کے سامنے ہمیشہ پژمردہ ہی نظر آیا، حالانکہ پژمردہ تو پورا اخبار تھا لیکن اردو طبقہ کی مجبوری یہ تھی کہ ان کے سامنے کوئی متبادل نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ 1999ء میں جب اردو طبقہ کو متبادل کے طور پر ایک روزنامہ ملا تو حالانکہ لکھنؤ میں یہ قومی آواز پہلے ہی بند ہوچکا تھا لیکن راجدھانی دہلی جہاں سے وہ نکل رہا تھا، وقت کا ساتھ نہ دے پانے کی وجہ سے وہ بھی دھیرے دھیرے دم توڑ گیا۔

یہ بتانا شاید دلچسپی سے خالی نہ ہو کہ راقم نے جس صحافی کے اداریوں کو برسوں پڑھا، ان کی تحریروں کے آئینے میں ذہن میں ان کی تصویر کا خاکہ بناتا رہا، انھیں دیکھنے کا اتفاق چند برس قبل ان کی 9 ماہ کی جیل کی سرگزشت ’روداد قفس‘ کے ہندی ایڈیشن کے اجراء کی تقریب میں ہوا۔ تقریب میں پروفیسر روپ ریکھا ورما، پروفیسر رمیش دکشت، سابق پولیس افسر وبھوتی نرائن، ڈاکٹر شارب ردولوی، ڈاکٹر عمار رضوی نے روداد قفس کے تعلق سے جن تاثرات کا اظہار کیا اس سے شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ راقم نے اس کتاب کا مطالعہ کیوں نہیں کیا، میں برادرم اویس سنبھلی کا شکر گزار ہوں جنھوں نے ہندی ایڈیشن کے ساتھ ہی روداد قفس کا اردو اڈیشن بھی عنایت فریایا فجزاہ اللہ خیراً۔ بلامبالغہ 208 صحفے کی یہ روداد دو نشستوں میں ختم کرڈالی۔ عام واقعات کو لفظوں کا جامہ پہنانا اور اسے اس لائق بنانا کہ دوسرے بھی اسے پڑھ کر محظوظ ہوں انتہائی مشکل کام ہے لیکن روداد قفس جگہ جگہ یہ احساس دلاتی ہے کہ حفیظ نعمانی صاحب ان مشکل راہوں سے کتنی آسانی سے گزر گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی مشاق ناول نگار کچھ مظلوموں، راندۂ سماج لوگوں کی داستان سنا رہا ہو۔ قاری ہے، جیل کے مظلومین ہیں اور ناول نگار کی حیثیت محض راوی کی ہے۔ دوسروں کے غم کو اپنا غم بنالینا، دوسروں کی خوشی پر خوش ہوجانا، پیشی پر جانے والے قیدیوں کی رہائی کے لئے جیل میں رہ گئے قیدیوں کا دعائیں مانگنا، کسی کو سزا ہوجانے پر پوری فضا پر رنج و غم کے بادل چھا جانا یہ تمام تاثرات اس کتاب میں جگہ جگہ ملتے ہیں۔

اگر کوئی شخص محض روداد قفس کا مطالعہ کرلے تو اسے نہ صرف ان کے انداز نگارش سے واقفیت ہوجائے گی بلکہ کسی واقعہ کو قلم بند کرنے کا اسلوب بھی وہ سیکھ سکتا ہے۔ جیل اور اس کے متعلقات پر اب تک بہت کچھ لکھا گیا ہے، سب کی الگ نوعیت ہے، حفیظ صاحب کی روداد قفس بھی منفرد خصوصیت کی حامل تحریر ہے۔ اس میں جس مربوط انداز میں واقعات کے تسلسل کو بیان کیا گیا ہے اس سے نہ صرف حفیظ صاحب اور ان کے 2 رفقاء کے حالات پر روشنی پڑتی ہے بلکہ جیل کے دوسرے قیدیوں کے رہن سہن، ان کے روزمرہ، جرائم کی نوعیت، جیل میں کھانے پینے نہانے دھونے، کھیل کود و دیگر مشاغل سے بھی کماحقہٗ واقفیت ہوجاتی ہے۔ جہاں ایک طرف قیدیوں میں بلاتفریق مذہب و ملت برادرانہ ہم آہنگی کی جھلک نظر آتی ہے وہیں جیل محافظوں کا مذہبی تعصب بھی جگہ جگہ جھلکتا ہے، ہندوستان کی عام روش کے مطابق رشوت کی گرم بازاری نظر آتی ہے تو محافظوں کی جیبیں گرم نہ کرپانے والے قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کے نمونے بھی ملتے ہیں۔ یہ حفیظ صاحب کا ہی حصہ ہے کہ جیل بیتی کو انھوں نے جگ بیتی بنادیا ہے، جیل کے فرصت کے اوقات میں قرآن پاک کو دوبارہ یاد کرکے جہاں انھوں نے زندگی کے سب سے تکلیف دہ اوقات کو سب قیمتی بنالیا وہیں روداد قفس کی شکل میں اردو ادب کے ذخیرہ کو بھی مالا مال کردیا۔ چند روز قبل کی بات ہے ہمارے ایک استاذ محترم جو معتبر ادیب، قادرالکلام شاعر اور ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور بہ مشکل کسی کو ’کچھ‘ تسلیم کرتے ہیں، وہ غریب خانہ پر تشریف لائے تھے، دوران گفتگو میں نے ان کی خدمت میں روداد قفس پیش کی، انھوں نے فہرست پر ایک نظر ڈالی اور بے ساختہ کہا کہ ’کسی باذوق شخص کی تحریر لگتی ہے‘۔

عنوان کسی بھی تحریر کا آئینہ ہوتا ہے اور کسی کتاب کے ہر مضمون کا عنوان کسی موزوں مصروع کو بنانا اس بات کی دلیل ہے کہ صاحب تحریر نہ صرف صاحب ذوق بلکہ صاحب وجدان بھی ہے۔ روداد قفس کے ہر مضمون کا عنوان کسی نہ کسی مصرع پر ہے۔ حفیظ صاحب کا قلم زندگی کی آخری سانس تک رواں دواں رہا۔ انھوں نے جو کچھ لکھا اسے کبھی محفوظ کرنے کی فکر نہیں کی۔ ان کے بھانجے جناب محمد اویس سنبھلی نے ان کی کچھ تحریروں کو یکجا کرکے اشاعت کا جامہ پہنایا ہے۔ اگر ان کی تمام تحریروں اور اداریوں کو جمع کیا جائے تو بلاشبہ کئی درجن کتابیں معرض وجود میں آجائیں گی۔ حفیظ صاحب کا تعلق ایک ایسے خانوادہ سے جو عرصے سے مملکت ِ قرطاس و قلم کی بادشاہت کر رہا ہے۔ ان کے وارثین کے لئے ان کے مضامین کو یکجا کرنا اور افادہ عامہ کے پیش نظر انھیں شائع کرنا بہت مشکل کام نہیں۔ حفیظ نعمانی کی تحریریں چاہے وہ اداریوں کی شکل میں ہوں یا خاکوں و مضامیں کی شکل میں، راہِ صحافت کے سالکین کے لئے بہرحال مشعل راہ ہیں۔