شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد برہان الدین سنبھلی حیات اور کارنامے

شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد برہان الدین سنبھلی حیات اور کارنامے

سنبھل صوبہ اترپردیش کا ایک تاریخی شہر ہے جو اپنی تعلیمی اور ثقافتی روایات کی بناء پر ہندوستان میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ ہندوستان کی جہاں مختلف مایہ ناز ہستیوں نے حصول علم کی غرض سے سنبھل کے لئے رخت سفر باندھا ہے، وہیں اس سرزمین سے پیدا ہونے والی بعض شخصیات نے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی پیمانہ پر دین اسلام کی خدمات پیش فرمائی ہیں۔ ان شخصیات میں حضرت مولانا محمد برہان الدین سنبھلی کا نام نامی بھی ہے جن کے ہزاروں ہزار شاگرد دنیا کے چپہ چپہ میں قرآن وحدیث کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مرحوم طویل علالت کے بعد 82 سال کی عمر میں 21 جمادی الاول 1440 مطابق 17 جنوری 2020 بروز جمعہ عصر کے وقت لکھنؤ میں انتقال فرماگئے۔ انَّا لِلّٰہ وَاِنَّا اِلَيہ رَاجِعون

مولانا محمد برہان الدین سنبھلی 4 ذی الحجہ 1356 مطابق 5 فروری 1938 کو سنبھل شہر کے میاں سرائے محلہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد بھی ایک عالم دین تھے، جن کا نام مولانا حافظ قاری حکیم محمد حمید الدین ہے۔ آپ کا پورا خاندان کم از کم چار پانچ پشتوں سے علم دین سے وابستہ رہا ہے۔ مرد تو مرد عورتیں بھی دینی تعلیم وتدریس میں مشغول رہی ہیں بالخصوص آپ کی والدہ اور دادی محترمہ۔ آپ کے والد دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد تھے۔ مولانا مرحوم نے حفظ قرآن، قرأت اور عربی وفارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے ہی حاصل کی۔ اس کے بعد سنبھل کے مشہور تعلیمی اداروں (مدرسہ سراج العلوم، مدرسہ الشرع کٹرہ موسیٰ خان اور مدرسہ دارالعلوم المحمدیہ) سے قرآن وحدیث کی مزید تعلیم حاصل کرکے ایشیا کی عظیم دینی یونیورسٹی ”دارالعلوم دیوبند“ میں 1956 میں داخلہ لیا۔ دارالعلوم دیوبند میں دو سال رہ کرکے 1957۔1958 میں فراغت حاصل کی۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کے علاوہ مولانا فخر الدینؒ، مولانا محمد ابراہیم بلیاویؒ، مولانا سید فخر الحسن مرادآبادیؒ، مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ، مولانا معراج الحقؒ، مولانا محمد حسین بہاری اور حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیبؒ سے استفادہ فرمایا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ (مظاہر العلوم سہارن پور) سے ”احادیث مسلسلات“ پڑھ کر شرف تلمذ حاصل کیا۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کرنے کے بعد دو ماہ سنبھل کے قدیم ادارہ ”مدرسہ سراج العلوم“ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد دہلی کا رخ کرکے مدرسہ عالیہ فتح پوری میں ابتدا سے ہدایہ آخرین تک مختلف سطح کی متعدد درسی کتابیں تقریباً 12 سال پڑھائیں۔ دہلی کے قیام کے دوران ایک مسجد میں تقریباً 12 سال درس قرآن وحدیث دیا، خاص طور پر مرحوم کا درس قرآن عام لوگوں میں کافی مقبول ہوا۔

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی دعوت پر 1390 مطابق 1970 میں مولانا محمد برہان الدین سنبھلی دہلی چھوڑ کر دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ تشریف لے گئے اور درس وتدریس میں مشغول ہوگئے۔ ندوۃ العلماء میں تفسیر، اصول تفسیر، حدیث اور فقہ کی کتابیں خاص طور پر آپ سے متعلق رہیں۔ بعد میں ندوۃ العلماء میں شعبہ تفسیر کے صدر کے منصب پر فائض ہوئے۔ ہندوستان کی عظیم علمی درسگاہ ”ندوۃ العلماء لکھنؤ“ میں موصوف نے 45 سال سے زیادہ علوم قرآن وحدیث کا درس دیا۔ مرحوم نے پوری زندگی کمال دیانت اور ایمانداری کے ساتھ قرآن وحدیث کی خدمات پیش کیں۔ اس طرح آپ کے ہزاروں ہزار شاگرد آپ سے استفادہ کرکے جگہ جگہ تعلیمی وعلمی مشغولیات میں مصروف ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں بعض شاگرد ندوۃ العلماء لکھنؤ میں بھی تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ندوۃ العلماء لکھنؤ میں مجلس تحقیقات شرعیہ میں اہم ذمہ داری نبھانے کی وجہ سے عصر حاضر کے نئے مسائل پر کام کرنے کا موقع ملا، چنانچہ مرحوم کے عربی اور اردو زبان میں سو سے زیادہ علمی وتحقیقی مقالے اور مضامین مختلف کانفرنسوں میں پڑھے گئے اور متعدد رسائل میں شائع ہوئے۔ نہ صرف برصغیر سے شائع ہونے والی تقریباً تمام ہی عربی میگزینوں میں آپ کے مضامین شائع ہوئے بلکہ بیرون ملک میں بھی آپ کے علمی وتحقیقی مضامین ومقالات کو بڑی قدر کی نگاہ سے شائع کیا جاتا رہا۔

مولانا محمد برہان الدین سنبھلی اپنے علمی کاموں میں اتنا مصروف رہتے تھے کہ عوامی جلسوں میں شرکت کرنا آپ کے لئے آسان نہیں تھا لیکن اندرون وبیرون ممالک میں علمی وتحقیقی مقالات پیش کرنے اور مختلف موضوعات پر بحث ومباحثہ کے لئے آپ کی کوشش رہا کرتی کہ اس میں ضرور تشریف لے جائیں، خاص کر نئے وپیچیدہ مسائل کے حل کے لئے منعقد ہونی والی کانفرنسوں میں خاص دلچسپی سے شرکت فرماتے تھے۔ مرحوم کو سعودی عرب، الجزائر، ملیشیا، امریکہ، جنوبی افریقہ اور برطانیہ میں منعقد ہونے والی علمی مجالس واجتماعات میں شرکت کرنے، قیمتی مقالے پیش کرنے اور بحث ومذاکرہ میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء لکھنؤ، دارالعلوم حیدرآباد، جامعہ سلفیہ بنارس، خدا بخش لائبریری (پٹنہ) اور جمعیت علماء ہند میں منعقد ہونے والے علمی سیمناروں میں آپ مکمل تیاری کے ساتھ شرکت فرماتے تھے۔

متعدد علمی وملی اداروں نے مرحوم کو رکنیت کا شرف بخشا تھا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڑ کے آپ تاسیسی ممبر اور مجلس عاملہ کے رکن رہے۔ آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کی ترقی کے لئے بنے مشاورتی بورڑ کے ممبر بنائے گئے۔ آپ مرکزی دارالقضاء (یوپی) کی قاضی کونسل کی صدارت (قاضی القضاۃ) کے عہدہ پر فائض رہے۔ مرحوم مجمع الفقہ الاسلامی (الہند) کے نائب صدر، ندوۃ العلماء میں مجلس تحقیقات شرعیہ کے ناظم، دارالعلوم دیوبند میں نصاب کمیٹی کے رکن اور دینی تعلیمی کونسل اترپردیش کے رکن رہے۔ 2008 میں عربی زبان کی بے لوث خدمات کے پیش نظر آپ کو صدر جمہوریہ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

جہاں ایک طرف مولانا مرحوم کے ہزاروں کی تعداد میں شاگرد قرآن وحدیث کی خدمات میں مصروف ہیں، جن کا اجروثواب آپ کو پہنچتا رہے گا، وہیں آپ کی علمی وتحقیقی مضامین وکتابوں سے عرصہ دراز تک استفادہ کیا جاتا رہے گا جو اُن کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ ان کی بعض کتابیں شائع ہوکر عوام وخواص میں کافی مقبولیت حاصل کرچکی ہیں۔ مولانا سنبھلی نے اپنے قیمتی مقالوں اور مضامین کے علاوہ بہت سی کتابیں بھی لکھیں جو زیادہ تر فقہی اور مسائل حاضرہ کی شرعی حیثیت سے متعلق ہیں۔ ان کی چند مشہور تصانیف حسب ذیل ہیں: قضایا فقہیہ معاصرہ: عربی کی یہ کتاب دمشق (سوریا) سے شائع ہوئی ہے، اس میں عصر حاضر کے نئے مسائل مثلاً بینکنگ سسٹم، حق تصنیف وتالیف کی خریدو فروخت، انسانی خون اور اعضاء کا استعمال اور رویت ہلال جیسے اہم موضوعات پر مدلل بحث کرکے ان کا موجودہ زمانہ میں شرعی حل پیش کیا گیا ہے۔ رؤیت ہلال کا مسئلہ: ندوۃ العلماء لکھنؤ کی مجلس تحقیقات سے شائع شدہ اس کتاب میں مستند کتابوں کے حوالوں کے ساتھ چاند کی رؤیت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور موجودہ دور میں اس کا شرعی حل بتایا گیا ہے۔ معاشرتی مسائل: نکاح، طلاق، تعدد ازواج اور وراثت جیسے مسائل پر مغرب کے اسلام مخالف عناصر کی طرف سے جو اعتراضات کئے گئے ہیں، مولانا مرحوم نے اس کتاب میں ان کے مدلل جوابات تحریر فرمائے ہیں۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس کتاب کے متعدد ایڈیشن اندرون وبیرون ملک شائع ہوچکے ہیں۔ بینک انشورنس اور سرکاری قرضے: مجلس تحقیقات اسلامی حیدرآباد سے شائع شدہ اس کتاب میں موجودہ دور میں بینک سے قرضے لینے اور انشورنس وغیرہ کرانے پر مدلل بحث کرکے مرحوم نے زمانہ کے تقاضے کو سامنے رکھ کر حل پیش فرمائے ہیں۔ جدید طبی مسائل: مجلس تحقیقات اسلامی حیدرآباد کی سرپرستی میں شائع شدہ اس کتاب میں عصر حاضر کے میڈیکل مسائل پر مدلل گفتگو کرکے ان کا شرعی حل بتایا گیا ہے۔ جہیز یا نقد رقم کا مطالبہ شرعی احکام کی روشنی میں: ہمارے معاشرہ میں جہیز جیسی مہلک بیماری بہت زیادہ رائج ہوگئی ہے، جس کے نقصانات کو اس کتاب میں بیان کرکے اس سے بچنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ کتابچہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے شائع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ نے متعدد کتابیں تحریر فرمائی ہیں۔ اختصار کے پیش نظر ان میں سے صرف چند کا نام ذکر کردیتا ہوں۔ یونیفارم سول کوڈ اور عورت کے حقوق،،، اصلاح معاشرہ،،، نفقہئ مطلقہ،،، موجودہ دور میں کار نبوت انجام دینے والے،،، مسلمانوں کی پریشانیوں کے حقیقی اسباب اور علاج،،، چند اہم کتب تفسیر اور قرآن کریم کے ترجمے،،، خواتین کے لئے اسلام کے تحفے،،، چند اہم دینی مباحث،،، موجودہ زمانے کے مسائل کا شرعی حل،،، اور درس قرآن کریم۔

مولانا مرحوم تقریباً 12 سال سے فالج زدہ تھے، وہیل چیئر پر چلتے تھے، مگر اس آزمائش کے دور میں بھی چہرے کی بشاشت اور طبیعت کی لطافت قابل دید تھی۔ بیماری کی حالت میں بھی آپ طلبہ کو پڑھانے کی ہر ممکن کوشش فرماتے تھے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں انہوں نے علم وتحقیق کے میدان میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ بلاشبہ ان کے انتقال سے ایک بڑا علمی خسارہ پیدا ہوا ہے جو ہمیں مل جل کر پورا کرنا چاہئے۔ آپ کی دیگر خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی تھی کہ آپ انتہائی سادہ صفت بشر تھے۔ آپ نے غیبت اور کسی کی تنقیص سے ہمیشہ اپنا دامن بچائے رکھا۔

مولانا محمد برہان الدین سنبھلی کی علمی خدمات عرصہئ دراز تک یاد رکھی جائیں گی۔ اس سادہ صفت شخص کی بے شمار خوبیوں کو سالوں سال لکھا، پڑھا اور سنا جائے گا۔ مگر اس موقع پر ہمیں یہ غور وفکر کرنا چاہئے کہ انسان کتنی بھی بلندیوں پر پہنچ جائے اور کتنی بھی کامیابیوں کو حاصل کرلے لیکن ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ اس کی آنکھ دیکھ نہیں سکتی، زبان بول نہیں سکتی، کان سن نہیں سکتے، ہاتھ پیر کام نہیں کرسکتے، غرضیکہ ہر شخص کا دنیاوی سفر ایک دن ختم ہوجائے گا، یعنی اس کو موت آجائے گی۔ پوری کائنات میں سب سے افضل واعلیٰ مخلوق انبیاء کرام کو بھی اس مرحلہ سے گزرنا پڑا ہے۔ موت نام ہے روح کا بدن سے تعلق ختم ہونے کا اور انسان کا دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرنے کا۔ ترقی یافتہ سائنس بھی روح کو سمجھنے سے قاصر ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر اعلان فردیا ہے: روح صرف اللہ کا حکم ہے۔ ہمیں بھی ایک روز مرنا ہے اور اپنے خالق، مالک اور رازق کائنات کے سامنے اپنی دنیاوی زندگی کا حساب دینا ہے۔ لہذا ہم اس موقع پر یہ عہدوپیمان کریں کہ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزاریں گے اور جھوٹ، سود، رشوت خوری، دھوکہ دھڑی، شراب نوشی، عیاشی اور بے حیائی جیسی معاشرہ کی عام برائیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ نیز سچائی، امانت داری، معاملات میں صفائی، تعلیم، عمدہ اخلاق، بڑوں کا احترام،چھوٹوں پر شفقت، پڑوسیوں کا خیال، دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اور اپنی ذمہ داریوں کو بحسن خوبی انجام دینا جیسی خوبیوں کو اپنی زندگی میں لاکر اپنے معاشرہ کو خوب سے خوب تر بنائیں گے تاکہ ہم اس دنیاوی زندگی میں بھی سرخ روئی حاصل کریں اور اور مرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی میں ایسی کامیابی وکامرانی حاصل کریں کہ جس کے بعد ناکامی نہیں۔

آخر میں مولانا مرحوم کے لئے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنائے، انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے اور اُن کے اہل خانہ اور دیگر لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ آپ کے صاحبزاے مولانا نعمان الدین صاحب ندوی بھی اہل قلم میں سے ہیں اور مشہور شاعر قمر سنبھلی مولانا مرحوم کے حقیقی بھائی ہیں۔