عابد سہیل کے افسانوں نے دیر پا اثرات مرتب کئے:پروفیسر شارب رودولوی

عابد سہیل کے افسانوں نے دیر پا اثرات مرتب کئے:پروفیسر شارب رودولوی

نجب النساء میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام ’عابدسہیل شخصیت اور خدمات‘موضوع پرسمینار کاانعقاد

لکھنؤ۲؍فروری،عابد سہیل بنیادی طور پر افسانہ نگار تھے ،انہوں نے ادب کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی، صحافت سے بھی وابستہ رہے،لیکن اصلاً وہ افسانہ نگار تھے۔فکشن ان کی شخصیت کا احاطہ کرتا ہے،ان کا اسلوب افسانے کا ہے ،ان کی زبان افسانے کی ہے ،عابد سہیل کی صفت یہ ہے کہ انہوں نے کم افسانے لکھے،لیکن اس کے باوجود ان کے افسانوں نے دیر پا اثرات مرتب کئے، وہ اپنے افسانوں کے اندر جیتے تھے، ان کے افسانوں کے کردار بہت متاثر کن ہوتے تھے۔مذکورہ خیالات کا اظہارپروفیسر شارب رودولو نے ’عابدسہیل شخصیت اور خدمات‘موضوع پر منعقد سمینار کی صدارت کرتے ہوئے کیاپروگرام کاانعقادنجب النساء میموریل ٹرسٹ لکھنؤوقومی کونسل برائے فروغ اردوزبان،نئی دہلی کے اشتراک سے یوپی پریس کلب میںکیا گیا۔

ڈاکٹر صبیحہ انور نے کلید خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عابد سہیل کی شخصیت بڑی عجیب طرح کی تھی، وہ بہت زیادہ محتاط رہتے تھے، معاملات بہت پختہ تھے۔سادہ دل اور منکسرالمزاج تھے،انہوں نے عابد سہیل کی آپ بیتی’’جو یاد رہا‘‘ کے حوالے سے نہایت تفصیلی اور کارآمد گفتگو کی۔

مہمان خصوصی سینئرصحافی احمدابراہیم علوی نے اپنی پرانی یادوں اور دوستی کے حوالے سے ان کی شخصیت پر زبردست روشنی ڈالی،انہوں نے کہاکہ اردو کے ممتاز فکشن نگار اور صحافی عابد سہیل کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ انھوں نے صرف فکشن میں اپنی شناخت مستحکم نہیں کی، بلکہ تنقید میں بھی اپنا اعتبار قائم کیا۔ ادبی موضوعات اور مسائل پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ انھوں نے اپنا صحافتی سفر ایک انگریزی اخبار سے شروع کیا تھا، بعد میں انھوں نے اردو صحافت سے اپنا مضبوط رشتہ جوڑا اوراپنے صحافتی جوہر دکھائے۔ انھوں نے ماہنامہ ’کتاب‘ کے ذریعے کئی نسلوں کی ذہنی اور تحریری تربیت بھی کی۔ مہمانان اعزازی شیخ عبدالماجد ندوی،اورشکیل صدیقی نے کہا کہ عابد سہیل ممتاز افسانہ نگار اور ایک باکمال صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی ساری زندگی ادب اور صحافت کے ذریعے سماج کی منفی طاقتوں سے مقابلہ کرتے گزری۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کے فعال کارکنوں میں شامل رہے اور عملی سطح پر پارٹی کی نظریاتی توسیع کی سر گرمیوں کا حصے بنے رہے۔ ’نیشنل ہالرائڈ‘ اور ’قومی آواز‘میں ملازم رہے اور یادگار صحافتی خدمات انجام دیں۔انہوں نے کہا کہ عابد سہیل کے خاکوں میں شخصیت کی مرقع کشی کے پس پردہ اس دور کی تہذیبی،سماجی اور سیاسی ماحول کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔عابد سہیل نے اپنے خاکوں میں تہذیبی قدروں،ادبی،سیاسی اور سماجی صورت حال کو فنکارانہ طور پر اس طرح بیان کیا ہے کہ نصف صدی کی روح ان کے خاکوں میں سمٹ آئی ہے اور یہ خاکے کسی مخصوص شخصیت کی جیتی جاگتی تصویر کے علاوہ اس عہد کا منظر نامہ بھی پیش کر تے ہیں۔مثال کے طور پر ہندوستان کی وہ تہذیب نظر آتی ہے جس میں بڑوں کی عزت اور حرمت کا ایک قوی تصور موجود ہے۔

مقالہ نگاران میں ڈاکٹرنور فاطمہ اسسٹنٹ پروفیسر، مولاناآزادنیشنل اردو یونیورسٹی لکھنؤ،ڈاکٹر ریشمہ پروین اسسٹنٹ پروفیسر،کھن کھن جی گرلس کالج نے کہا کہ عابد سہیل نے افسانوں کے علاوہ انہوں نے مشہور علمی و ادبی شخصیات کے خاکے بھی لکھے۔زندگی کے آخری برسوں میں انہوں نے ’جو یاد رہا‘ کے نام سے اپنی سوانح لکھی۔ جسے اردو کی چند اچھی سوانحی کتابوں میں شمار کیاگیا۔عابد سہیل ادبی حلقہ میں افسانہ نگار کی حیثیت سے زیادہ یاد کئے جاتے ہیں لیکن ان کی غیر افسانوی نثر کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے خاکے و ترجمے، تنقید و تبصرے، خود نوشت و اداریے اور دیگر قابل ذکر تخلیقات چھوڑی ہیں۔ان کے دو خاکوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔پہلاخاکوںکامجموعہ ’کھلی کتاب ‘کے نام سے جولائی2004 میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں شامل15 خاکے ڈاکٹر عبداالعلیم، حیات اللہ انصاری، ایم چلپت راؤ(ایم سی)، آل احمد سرور، پنڈت آنند نرائن ملا، عشرت علی صدیقی، عابد پیشاوری ، وجاہت علی سندویلوی، منظر سلیم،احمد جمال پاشا، ڈاکٹر عبدالحلیم، راجیش شرما، نسیم انہونوی اوراولڈانڈیاکافی ہاؤس کے ہیں۔

دیگر مقالہ نگاران میںڈاکٹر شبنم اکبر، ریسرچ اسکالر موسی رضاو حمیرہ عالیہ نے عابد سہیل کی زندگی کے بارے میں اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ عابد سہیل زندگی بھر ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہنے کے باوجودانہوں نے اپنی تحریروں میں کبھی شدت پسندی کو نہ آنے دیا اور ہمیشہ ادب کے تقاضوں کی پاسداری کی۔ اسی لئے ان کی تحریریںخواہ افسانوی ہوں یا غیر افسانوی ان میں افادی پہلو کے ساتھ ساتھ ادبی حسن ضرور ملتا ہے جو ان کی تحریر کو ’کالے اکشروں‘ کی بھیڑ میں کھونے نہیں دیتا۔ عابد سہیل اردو ادب میں بنیادی طور پر افسانہ نگارتسلیم کئے جاتے ہیں لیکن انھوں نے دیگر علمی وادبی میدان میں بھی اپنے فکر و فن کے جوہر دکھائے ہیں۔وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔بیک وقت افسانہ نگار،صحافی،نقاد،مترجم اور خاکہ نگار بھی تھے۔

سمینار کی نظامت بحسن خوبی ڈاکٹرہارون رشید نے انجام دی اور عابدسہیل کی حیات پردرمیان میں وقفے وقفے سے سیرحاصل گفتگو کی،افتتاحی اورتعارفی کلمات کنوینر پروگرام نے ادا کئے،اورآخر میں مہمانان اورسامعین کا شکریہ ٹرسٹ کے ترجمان ضیاء اللہ صدیقی ندوی نے اداکیا۔پروگرام میں مخصوص شرکاء میں ڈاکٹر نثاراحمد، ڈاکٹر ارشاداحمد بیاروی، انصار احمدایڈوکیٹ،ڈاکٹررضوانہ،اویس سنبھلی،غفران نسیم،اہرارالھدیٰ شمس،ڈاکٹرسید محمدصبیح ندوی، منتظر قائمی، ڈاکٹر نسیم الدین، مولانا قاری عبدالکریم ندوی،حقیق اللہ ندوی،غوث الاعظم لاری، عقیل اشرف،اور ضرغام الدین وغیرہ شریک ہوئے۔اسی پروگرام میں این سی پی یو ایل ڈپلومہ کورس کرنے والے ممتاز طلبا وطالبات کو معزز مہمانان کے بدست توصیفی سند وشیلڈ پیش کی گئی۔